یہ خطرناک ہو سکتا ہے۔
آپ وہی ہوتے ہیں جو آپ کھاتے ہیں۔ مجھے یقین ہے آپ نے یہ بات پہلے بھی سنی ہو گی۔
اس کا مطلب بالکل واضح ہے۔ ہم جو غذا کھاتے ہیں اس کا اثر ہماری جسمانی اور ذہنی صحت پر پڑتا ہے۔ اور اسی وجہ سے ہماری شخصیت پر بھی اثر ہوتا ہے۔
کھانے کی بیماری میں کئی سال گزارنے کے بعد میں اس بات کو اچھی طرح سمجھ سکتی ہوں۔ جب میں اینوریکسیا کا شکار تھی تو میں ہمیشہ تھکی رہتی تھی۔ مسلسل سر درد رہتا تھا۔ چڑچڑاپن اور موڈ میں اتار چڑھاؤ رہتا تھا۔
جی ہاں۔ ہماری غذا ہمیں توانائی اور تندرستی کا احساس دلا سکتی ہے یا ہمیں تھکا ہوا اور بیمار بھی کر سکتی ہے۔ اسی طرح ہماری خوراک ہمارے سوچنے کے انداز۔ مزاج۔ اور رویے پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔
آپ وہی ہیں جو آپ کھاتے ہیں۔ یہ بات اس حقیقت پر بھی زور دیتی ہے کہ ہم جو کچھ کھاتے ہیں اس کی ذمہ داری ہماری اپنی ہے۔
آپ کیا کھاتے ہیں اور میری مراد صرف جسمانی خوراک نہیں ہے۔ میں اس بات کو یوں بھی پوچھ سکتی ہوں کہ آپ کیا قبول کرتے ہیں۔ آپ کون سی فلمیں دیکھتے ہیں۔ آپ کون سی موسیقی سنتے ہیں۔
جو کچھ ہم اپنے اندر لیتے ہیں وہ یا تو ہمیں آزادی دیتا ہے یا ہم سے آزادی چھین لیتا ہے۔
اور ہاں۔ اس کی ذمہ داری آپ پر ہے۔
کوئی آدمی دو مالِکوں کی خِدمت نہیں کر سکتا کیونکہ یا تو ایک سے عداوت رکھّے گا اور دُوسرے سے مُحبّت۔ یا ایک سے مِلا رہے گا اور دُوسرے کو ناچِیز جانے گا۔ تُم خُدا اور دَولت دونوں کی خِدمت نہیں کر سکتے۔ 'متی 6:24.
اُس وقت میں دو مالکوں کی خِدمت کر رہی تھی۔ میں ہمیشہ یسوع سے محبت کرتی تھی لیکن میں دوسروں سے بھی محبت پانا چاہتی تھی۔ اور اگر میں ایمانداری سے کہوں تو دوسروں سے محبت پانے کی خواہش یسوع کی محبت سے بڑھ کر تھی۔
آج میں جانتی ہوں کہ دو مالکوں کی خِدمت کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ یہ خواہش تقریباً میری جان لے ہی لیتی۔
میں نہیں جانتی کہ آپ کے معاملے میں یہ کیا ہو سکتا ہے شاید آپ اتوار کے دن نہایت خوبصورت عبادتی گیت گاتے ہوں۔ لیکن ہفتے کے دن آپ کے منہ سے سخت اور ناپسندیدہ الفاظ نکلتے ہوں۔
خدا چاہتا ہے کہ آپ خوش اور تندرست رہیں۔ اور آپ ضرور رہیں گے اگر آپ صرف اُسی کی خِدمت کریں۔
آج ذرا غور کریں کہ آپ کیا کچھ اختیار کر رہے ہیں۔ جو کچھ غیر صحت مند ہے اُسے صلیب کے پاس لے آئیں۔ اور اُس کی آزادی کا تجربہ کریں۔
میں آج خاص طور پر شعوری طور پر آپ کے لیے دعا کر رہی ہوں۔
آپ ایک معجزہ ہیں۔
ڈیبورا