خاموش رہیں۔
خداوند آپ سے آج یہی کہہ رہا ہےاس کے حضور خاموش رہیں
شاید آج آپ کو صرف یہی بات سننے کی ضرورت ہےاس کے حضور خاموش رہیں۔جب میں نے خدا سے پوچھا کہ وہ اس ہفتے آپ کے لئے میرے وسیلے سے کیا کہنا چاہتا ہےتو میری نظر اس چھوٹی مگر نہایت بامعنی آیت پر ٹھہر گئی۔
'مگر خُداوند اپنی مُقدّس ہَیکل میں ہے۔ ساری زمِین اُس کے حضُور خاموش رہے۔'حبقوق 2. 20.
جب آپ اس آیت کو غور سے پڑھتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ یہاں فٹ نہیں ہوتی۔ حبقوق دنیا میں ہونے والی ناانصافی پر شکوہ کر رہا ہے۔ اس بات پر بھی کہ لوگ خدا سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے۔ اور اس پر بھی کہ خدا خاموش دکھائی دیتا ہے۔
اپنی زندگی کے اس ہنگامے اور خدا کی خاموشی کے درمیان حبقوق کہتا ہے۔ خاموش رہو۔ جب زندگی میں سب کچھ بکھرا ہوا ہو اور خدا بھی خاموش ہو تو دل چاہتا ہے کہ زور سے پکاریں۔ آپ کہاں ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں خاموش ہونے کا کیا مطلب ہے ۔ اس کا مطلب ہے شور سے آزاد ہونا۔ کسی قسم کی آواز نہ نکالنا۔ گھبراہٹ میں چیخنا بھی نہیں۔ اور حرکت بھی نہیں کرنا۔ کیا آپ ایسا کر سکتے ہیں.
تو اس وقت آپ کی دعا کی درخواست کیا ہے۔ یا بہتر یہ کہ کیا آپ نے اپنے مسئلے کو دعا بنا کر خدا کے سامنے رکھ دیا ہے۔ یا پھر آپ اب بھی خدا کو شامل کئے بغیر خود ہی سب کچھ سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کیونکہ آج خدا آپ کو بالکل اسی جگہ لے جانا چاہتا ہے۔ اپنی ذات کی طرف۔ وہاں جہاں آپ کا مسئلہ آپ کے خود حل کرنے کی کوشش کے بغیر حل پاتا ہے۔ وہاں جہاں آپ کا غم آپ کی کوشش کے بغیر نئی خوشی میں بدل جاتا ہے۔ وہاں جہاں نااُمیدی کی حالت میں اچانک ایک نیا دروازہ کھل جاتا ہے اور آپ کو خود اسے دھکیلنا نہیں پڑتا۔
اگر آپ بس خاموش رہیں تو وہ آپ کی ضرورت کو پورا کرے گا۔
خدا آپ کے لئے سب کچھ درست کرنا چاہتا ہے۔ آج آپ کا کام صرف یہ ہے کہ ایمان اور دعا میں اُس کے حضور خاموش رہیں۔
آپ ایک معجزہ ہیں۔
ڈیبورا