کیا خدا آپ کو اپنے سے دور رکھ رہا ہے۔
کیا میں ہی وہ واحد ہوں جس سے خدا بات نہیں کرتا۔اتوار کی عبادت کے بعد ایک عورت کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ یہ پہلا آج کا معجزہ لائیو ایونٹ تھا۔وہ کہنے لگی۔ میں نے اپنے اردگرد لوگوں کو دیکھا کہ روح القدس نے انہیں چھو لیا۔ مگر خدا نے مجھے نظر انداز کر دیا۔
کیا آپ نے بھی کبھی ایسا وقت دیکھا ہے۔حبقوق بھی اس کیفیت سے واقف تھا۔ اور وہ ایک نبی تھا۔ ایک نبی کو تو ضرور خدا کی آواز سننی چاہیے۔لیکن وہ بھی اس خاموشی میں آ گیا۔ وہ خاموشی جو ہمیں یہ ماننے پر مجبور کر دیتی ہے کہ شاید خدا ہمیں اپنے سے دور رکھ رہا ہے۔حبقوق 1. 2. میں لکھا ہے 'اَے خُداوند! مَیں کب تک نالہ کرُوں گا اور تُو نہ سُنے گا؟ مَیں تیرے حضُور کب تک چِلاّؤُں گا ظُلم! ظُلم! اور تُو نہ بچائے گا؟ '
آئیے سادہ الفاظ میں سمجھتے ہیںمیں جس سے بھی پوچھتی ہوں بہت کم لوگ کہتے ہیں کہ وہ اس وقت خدا کو شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔
یہ درست ہے کہ کبھی کبھی ہم خدا کی حضوری کو گہرائی سے محسوس کرتے ہیں۔ مگر اکثر ایسا نہیں ہوتا کہ ہم صبح اٹھیں اور فوراً خدا کو محسوس کریں۔
لیکن ایک بات یاد رکھیں۔ہم ہمیشہ خدا کو محسوس نہیں کرتے۔ مگر ہم ہمیشہ اس پر ایمان رکھ سکتے ہیں۔ہم ہمیشہ خدا کو محسوس نہیں کرتے۔ مگر ہم ہمیشہ اس پر بھروسا کر سکتے ہیں۔
خدا صرف ایک احساس نہیں ہے۔اس لئے ایمان رکھنے کے لئے کسی خاص احساس کا انتظار نہ کریں۔
حبقوق کی کتاب اس احساس سے شروع ہوتی ہے کہ خدا خاموش دکھائی دیتا ہے۔اور شاید آج آپ بھی اسی مرحلے میں ہوں۔
مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ حبقوق کی کتاب کس ایمان پر ختم ہوتی ہے۔
تَو بھی مَیں خُداوند سے خُوش رہُوں گا اور اپنے نجات بخش خُدا سے خُوش وقت ہُوں گا۔ 'حبقوق 3. 18.
حبقوق کسی احساس کا انتظار نہیں کرتا۔ وہ ایک فیصلہ کرتا ہے۔
کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ کیونکہ خدا اسے وہ سب دیتا ہے جس کی اسے واقعی ضرورت ہوتی ہے۔
'خُداوند خُدا میری توانائی ہے۔ وہ میرے پاؤں ہرنی کے سے بنا دیتا ہے اور مُجھے میری اُونچی جگہوں میں چلاتا ہے۔ (مِیر مُغنّی کے لِئے میرے تاردار سازوں کے ساتھ)'حبقوق 3. 19.
اسی طرح خدا آپ کو بھی وہی دے گا جس کی آپ کو ضرورت ہے اور یہ کسی احساس سے کہیں بڑھ کر ہے۔آج اپنے قادرِ مطلق خدا میں خوشی منائیں۔
آپ ایک معجزہ ہیں۔
ڈیبورا