کیا آپ مایوس ہیں۔
مایوس مزاج لوگ اکثر بدترین نتیجے کی توقع رکھتے ہیں یا کم از کم منفی انجام کا۔ وہ اکثر یہ سوچتے ہیں کہ میں کبھی درست نہیں کر پاؤں گا یا یہ کبھی کام نہیں کرے گا۔
وہ ہر بات کو منفی زاویے سے دیکھتے ہیں اور اکثر یہ جملہ استعمال کرتے ہیں کہ گلاس آدھا خالی ہے۔ مایوس مزاج لوگ ایسا اس لیے سوچتے ہیں تاکہ خود کو مایوسی سے بچا سکیں اور پہلے ہی بدترین صورتحال کے لیے تیار رہیں۔ لیکن یہ رویہ سنجیدہ خطرات لے کر آتا ہے۔ یہاں تک کہ اس خطرے تک کہ آپ اپنے ایمان کی پوری اور شاندار قدرت کو اس کی بھرپوری میں تجربہ نہ کر سکیں۔ آج میں اس بات کو ذرا گہرائی سے آپ کے ساتھ دیکھنا چاہتی ہوں۔
'اُس نے اُن کو تاکِید کر کے حُکم دِیا کہ یہ کِسی سے نہ کہنا۔ اور کہا ضرُور ہے کہ اِبنِ آدمؔ بُہت دُکھ اُٹھائے اور بزُرگ اور سردار کاہِن اور فقِیہہ اُسے ردّ کریں اور وہ قتل کِیا جائے اور تِیسرے دِن جی اُٹھے۔ 'لُوقا 9. 21-22.
ہاں وہ جانتا تھا کہ وہ مرے گا۔ لیکن وہ یہ بھی یقین رکھتا تھا کہ وہ پھر جی اُٹھے گا۔ آنسوؤں کے بیچ بھی اُس نے آنے والی خوشی کو تھامے رکھا۔
اور آپ کو بھی مایوس مزاج ہو کر جینے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ آج ہی یہ فیصلہ کریں کہ خُدا پر اپنے اعتماد کو تازہ کریں۔ اور یقین رکھیں کہ یہ وقت بھی کسی نہ کسی بھلائی کو جنم دے گا۔ جیسا کہ ہم زبور بتیس میں پڑھتے اور دعا کرتے ہیں۔
'تُو میرے چِھپنے کی جگہ ہے۔ تُو مُجھے دُکھ سے بچائے رکھّے گا۔ تُو مُجھے رہائی کے نغموں سے گھیر لے گا۔ (سِلاہ) 'زبور 32.7.
آنسوؤں کے درمیان آنے والے وقت کی خوشی کو اپنے سے چھننے نہ دیںآپ ایک معجزہ ہیں۔
ڈیبورا