ایک بار پھر۔
جب وہ خُدا کے حضُور اپنے فرِیق کی باری پر کہانت کا کام انجام دیتا تھا تو اَیسا ہُؤا 'لُوقا 1: 8
زکریاہ کی باری کے مطابق ہیکل میں ا یک بار پھر وہ اپنی خِدمت پر تھا۔
ایک بار پھر بہت سے احساسات کی ترجمانی کرتا ہے۔
ایک بار پھر میں یہ کام کئی بار کر چکا ہوں۔ایک بار پھر اگرچہ اس وقت مجھے خُدا کی حضوری محسوس نہیں ہو رہی۔ایک بار پھر اگرچہ مجھے اس میں کوئی خوشی محسوس نہیں ہو رہی۔ایک بار پھر اگرچہ مجھے نہیں لگتا کہ یہاں میری ضرورت ہے۔ایک بار پھر اگرچہ یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ خُدا مجھے دیکھتا ہے۔ایک بار پھر اگرچہ مجھے شک ہے کہ خُدا کبھی میری دُعاؤں کا جواب دے گا۔
کیا کبھی ایسے خیالات آپ کے دل میں بھی آتے ہیں؟
اسی لیے مجھے زکریاہ کی یہ کہانی بہت پسند ہے۔جب ہم زکریاہ کے بارے میں سوچتے ہیں تو سب سے پہلے یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ وہ خُدا کے کلام پر ایمان نہ لانےکی وجہ سے گونگا ہو گیا تھا۔لیکن زکریاہ کوئی بُرا آدمی نہیں تھا۔بلکہ اس کے برعکس۔کلام میں اس کے اور اُس کی بیوی کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ۔'اور وہ دونوں خُدا کے حضُور راست باز اور خُداوند کے سب احکام و قوانِین پر بے عَیب چلنے والے تھے 'لُوقا 1: 6
اگرچہ وہ خُدا کو خوش کرنے والی زندگی گزارتے تھے۔پھر بھی اُنہوں نے اپنی زندگی میں دکھ کو جانا۔مثال کے طور پر اولاد نہ ہونے کا درد۔کلامِ مقدس لُوقا 1: 7 میں کہتا ہے کیونکہ اِلیشِبَع بانجھ تھی ۔
شاید آپ کو بھی اب دنیا سمجھ میں نہیں آتی۔
آپ وہی کرتے ہیں جو خُدا چاہتا ہے۔آپ ایسی زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں جو اُسے پسند ہو۔پھر بھی آپ کو بہت سا دکھ سہنا پڑتا ہے۔خوشی کے بجائے غم۔معجزات کے بجائے مسلسل بُری خبریں۔یہی وہ جگہ ہے جہاں ایک بار پھر سامنے آتا ہے۔زکریاہ کی دُعا کہاں قبول ہوئی۔ہیکل میں۔جب وہ وفاداری سے ایک بار پھر خِدمت کر رہا تھا۔جب وہ ایک بار پھر خُدا کی حضوری کو ڈھونڈ رہا تھا۔
اگر اپنے معجزے کا تجربہ کرنے کے لیے ایمان سے چلنے کی ضرورت ہے تو کیا آپ آج آگے بڑھنا نہیں چاہیں گے۔
تُو چُپکا رہے گا اور بول نہ سکے گا۔ اِس لِئے کہ تُو نے میری باتوں کا جو اپنے وقت پر پُوری ہوں گی یقِین نہ کِیا۔ 'لُوقا 1: 20
جو معجزہ خُدا نے آپ کے لیے مقرر کیا ہے وہ ٹھیک وقت پر ظاہر ہوگا۔آپ اس بات پر پورا بھروسا رکھ سکتے ہیں۔
آپ ایک معجزہ ہیں۔
ڈیبورا