ان خوفوں کو اندر نہ آنے دیں۔
اکثر مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا میں واقعی ہر روز یہ سب تحریریں خود لکھتی ہوں اور وہ بھی بالکل نئی تحریریں۔اور میں اب تک ہنستے ہوئے یہی جواب دیتی رہی ہوں کہ ہاں کوئی مشکل نہیں۔
اور سچ یہ ہے کہ میں واقعی ایسا ہی سوچتی تھی۔کیونکہ میرے ذہن میں ہمیشہ بے شمار خیالات ہوتے ہیں۔میرا اصل سوال صرف یہ تھا کہ میں ان سب خیالات کو لکھنے کے لئے وقت کہاں سے نکالوں۔
مگر حال ہی میں میں ایک ایسے دور سے گزری جو مجھے اچانک آن لیا تھا. میں دل گرفتہ تھی. اداس تھی. اور کئی ہفتوں تک خود کو سنبھال نہ پائی. میں حیران تھی کہ یہ سب میرے ساتھ کیوں ہو رہا ہے.
پھر ایک صبح دل میں ایک خیال بیدار ہوا. کہیں ایسا تو نہیں کہ میرے پاس کہنے کو کچھ باقی نہیں رہا. کہیں ایسا تو نہیں کہ میرے خیالات ختم ہو گئے. اگر ایسا ہے تو پھر میں دوسروں کے لئے حوصلہ کیسے بن سکوں گی.
اور آپ اس احساس کو ضرور جانتے ہوں گے. ایسے خیالات اگر دل میں جگہ پا لیں تو بہت جلد بے قابو ہو جاتے ہیں. اور دل کو کمزور کر دیتے ہیں.
اسی لمحے میں نے کہا. بس. کیونکہ یہ یاد رکھیں. ہر خیال پر یقین کرنا ضروری نہیں. اپنے خیالات کو اپنی زندگی پر اختیار نہ دیں. اپنی سوچ کو سیدھا رکھیں.
آہ مجھے بائبل بہت پیاری ہے. کاش ہم اپنے خیالات کے ہجوم میں اسے زیادہ کھولتے. زبور 56: 4
میں لکھا ہے.'میرا فخر خُدا پر اور اُس کے کلام پر ہے۔ میرا توکُّل خُدا پر ہے۔ مَیں ڈرنے کا نہیں۔ بشر میرا کیا کر سکتا ہے؟ جب آپ کے خیالات آپ پر ہاوی ہونے لگیں تو بائبل کے ساتھ ان کا مقابلہ کریں.
آپ اور میں کل کے آنے والے وقت سے ڈرنے کے محتاج نہیں.متی 6: 34
ہم پھر بھی اکثر اس خوف کو دل میں جگہ دے دیتے ہیں. کیا آپ نے خود کو بار بار ایسا کرتے پکڑا ہے. کیا میں کل اپنے خرچ پورے کر سکوں گی. کیا میرا رشتہ ٹوٹ جائے گا. کیا مجھے کبھی محبت ملے گی.
جن دنوں آپ ڈریں ان دنوں خدا پر بھروسا رکھیں.
کیا آپ آج اپنے شک والے خیالات کو خدا کی سچائی سے روکنا چاہتی ہیں.
اپنے خوفوں کو اپنے بے خوف خدا سے روشناس ہونے دیں.
آپ ایک معجزہ ہیں!
ڈیبورا