آپ کو یہ سب سے پہلے کرنا چاہیے.
آج ہم امثال تین باب پانچ سے سات کی آیات میں کچھ اور گہرائی میں جانا چاہتے ہیں. کیا آپ اس کے لیے تیار ہیں.مجھے کہنا ہے کہ ان آیات کے بارے میں سوچ کر میرے دل کو دوبارہ حوصلہ ملا ہے کہ میں خدا پر اور بھی زیادہ بھروسا رکھوں اور شعوری طور پر ہر بات میں اسے شامل کروں.خوبصورت حقیقت یہ ہے کہ اس کے ساتھ شعوری زندگی گزارنا آپ کو بہت زیادہ خوشی دیتا ہے.میں چاہتی ہوں کہ آپ بھی اسے محسوس کریں.
'سارے دِل سے خُداوند پر توکُّل کر اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔ تُو اپنی ہی نِگاہ میں دانِش مند نہ بن۔ خُداوند سے ڈر اور بدی سے کنارہ کر۔ 'امثال 3: 5 و 7
کیا آپ کچھ دیر گہرائی سے سوچنے کے لیے تیار ہیں ہم نے ان آیات کو بہت بار سنا ہے. آپ نے بھی یقیناً انہیں اپنے دل کے حوصلے کے لیے استعمال کیا ہوگا۔اکثر ہم ان آیات کی طرف اس وقت رجوع کرتے ہیںجب ہمیں سمجھ نہ آئے کہ کیا کرنا ہے. یا جب حالات ٹھیک نہ جا رہے ہوں. تب ہم خود کو یاد دلاتے ہیں کہ خدا کے پاس ہماری راہ موجود ہے. ایک ایسی راہ جو ہم ابھی دیکھ نہیں سکتے مگر خدا دیکھ رہا ہے.
در اصل یہ آیات ہمیں سکھاتی ہیں کہ ہر قدم سے پہلے دل کو خدا کے حضور جھکا دیں. اپنی ساری سوچ کو اس کے سپرد کر دیں. اور یقین رکھیں کہ وہ ہماری راہ سیدھی کرے گا.
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمیں یہ آیات اپنے دل میں پہلے سے رکھنی چاہئیں۔ ہر قدم اٹھانے سے پہلے۔ کسی کام کو شروع کرنے سے پہلے۔ اور کسی فیصلے تک پہنچنے سے پہلے۔ یہ آیات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اپنی سمجھ پر تکیہ نہ کریں.
اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ کبھی کبھی ہم کسی انسان کے بارے میں جلدی سے رائے بنا لیتے ہیں۔ ایسے شخص کے بارے میں جسے ہم اصل میں جانتے بھی نہیں۔ صرف اس کے کسی ایک رویے کو دیکھ کر۔ یا صرف وہ بات دیکھ کر جو سوشل میڈیا پر نظر آئے۔ لیکن کیا یہ ٹھیک ہے جب خدا ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم اپنے ہمسایہ سے محبت کریں۔ جیسا کہ متی 22: 39 میں لکھا ہے۔کیوں نہ ہم اپنے خیال سے کسی پر حکم لگانے سے پہلے محبت کریں.
اپنی سب راہوں میں اسے یاد رکھ اور وہ تیری راہیں سیدھی کرے گا.
اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مثال کے طور پر آپ کام پر جا رہے ہیں اور وہاں کا ماحول سوچ کر ہی دل بجھ جاتا ہے۔ ایسے میں ان فکروں کے دل کو بھاری کرنے سے پہلے خدا کو یاد کریں۔ اس کو سوچیں جو دل کے اندر سے خوشی دیتا ہے۔ اس کو جو ہر بات کر سکتا ہے۔ اس طرح آپ مسئلے سے منہ نہیں موڑتیں بلکہ مسئلے کو اب اس کی نظر سے دیکھتی ہیں جو حل دینے والا ہے.
اپنی ہی نظر میں دانا نہ بنو. ہم یہ بہت بار کرتے ہیں. صرف دوسروں کے لیے نہیں بلکہ خدا کے حضور بھی. ہم اپنے مسائل کا حل خود ہی سوچ لیتے ہیں. دعا کرنے سے پہلے. خدا کو شامل کرنے سے پہلے. بعض اوقات اس لیے کہ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ اس کی راہ اختیار کرنے میں کوئی قیمت ادا کرنا پڑے گی.
آج کیا ہم ایک مقصد رکھیں میں یہ چاہتی ہوں کہ میں مشکلات کے آنے سے پہلے ہی خدا کے کلام کے مطابق جینا شروع کر دوں.
آپ ایک معجزہ ہیں۔
ڈیبورا