سب سے بڑا کون ہے۔
اس ہفتے آئیں ان کنجیوں پر بات جاری رکھیں جو ہمیں خدا کے ساتھ آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہیں۔مجھے یقین ہے کہ آپ نے بائبل میں وہ حصہ ضرور پڑھا ہوگا جہاں یسوع کے شاگرد اس سے پوچھتے ہیں۔سب سے بڑا کون ہے۔متی 18: 1'اُس وقت شاگِرد یِسُوعؔ کے پاس آ کر کہنے لگے پس آسمان کی بادشاہی میں بڑا کَون ہے؟ '
انسانی فطرت چاہتی ہے کہ وہ سب سے بڑا ہو اور سب کی نظر میں آئے۔اسی فطرت میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا موازنہ کرے پھر خود کو کم تر سمجھے اور اپنی غلطیوں کا بوجھ دوسروں پر ڈال دے۔ یوں ہمارے اندر ایک کشمکش جنم لیتی ہے۔ ایک طرف وہ خواہش جو ہم اپنے لیے رکھتے ہیں۔ اور دوسری طرف وہ بھلائی جو ہمیں دوسروں کے لیے کرنی چاہیے۔
یسوع اس موقع پر ایک نئی سوچ لائے۔ خدا کی فطرت کی سوچ جس میں ہم بھی شریک ہو سکتے ہیں۔اس نے اپنی جلال اور نیکی کے وسیلے سے ہمیں بڑی اور بیش قیمت وعدے دیے ہیں۔کیونکہ ہمارے خُداوند یِسُوعؔ مسِیح کے بتانے کے مُوافِق مُجھے معلُوم ہے کہ میرے خَیمہ کے گِرائے جانے کا وقت جلد آنے والا ہے۔
یہ الٰہی فطرت اس خدا کی ہے جو خود کو جھکا کر فروتنی میں خدمت کرتا ہے اور آخر تک فرماں بردار رہتا ہے۔فِلپیوں 2 :6-11
روحانی ترقی پانے کی چھٹی کنجی یہ ہے کہ فروتنی کو خزانہ سمجھ کر اس کا پیچھا کریں۔ خالق اور نجات دہندہ کی فروتن فطرت کو اختیار کریں۔ یسوع نے ہمیں دکھایا کہ آسمان کی بادشاہی میں بڑا بننے کا راستہ کیا ہے۔
کیا میں آپ کے لیے دعا کروں۔اے خداوند آج کو اپنی راہ دکھا۔ اس کے دل اور زندگی کو ایسی صورت دے کہ اس میں فروتنی پروان چڑھے۔ اسے اپنے حضور اپنے دل کے قریب لا تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ تیری مانند بنے۔اپنے پاک روح اور اپنے فضل کے وسیلے اسے فروتنی اور عزت کی راہ پر چلا۔تیری عنایت اس کی زندگی پر ہو اور وہ اپنے ہر کام میں تیری روحانی ترقی کا تجربہ کرے۔یسوع کے نام میں آمین۔
آپ ایک معجزہ ہیں
ایر ک