کیا آپ دل برداشتہ ہیں؟
اکثر میں نے چاہا کہ رک جاؤں۔ مایوسی مجھ پر غالب آ جاتی تھی۔ میں نے اپنے دل میں کہا۔ اے خُداوند تیرے پیچھے چلنے کا کیا فائدہ۔ کیا حاصل۔ آج میں آپ کے ساتھ بائبل کا ایک حصہ بانٹنا چاہتا ہوں جو مجھے بہت حوصلہ دیتا ہے۔ یہ زبور کی کتاب میں لکھا ہے۔ زبور 1 باب کی پہلی سے تیسری آیت تک۔'مُبارک ہے وہ آدمی جو شرِیروں کی صلاح پر نہیں چلتا اور خطاکاروں کی راہ میں کھڑا نہیں ہوتا اور ٹھٹّھابازوں کی مجلِس میں نہیں بَیٹھتا بلکہ خُداوند کی شرِیعت میں اُس کی خُوشنُودی ہے اور اُسی کی شرِیعت پر دِن رات اُس کا دِھیان رہتا ہے۔ وہ اُس درخت کی مانِند ہو گا جو پانی کی ندیوں کے پاس لگایا گیا ہے۔ جو اپنے وقت پر پھلتا ہے اور جِس کا پتّا بھی نہیں مُرجھاتا۔ سو جو کُچھ وہ کرے باروَر ہو گا۔ 'زبُور 1: 1-3
کیا آپ نے کبھی اُن عورتوں یا مردوں کے بارے میں سوچا ہے جن کے دل میں سب کچھ چھوڑ دینے کا یہی احساس پیدا ہوا۔ خُدا کے عظیم نبی ایلیاہ بھی ایک مثال ہیں۔ جب اُس نے بدکار ایزابل کا دھمکی آمیز پیغام سنا تو اُس نے خُدا سے اپنی جان لینے کی درخواست کی۔ وہ مرنا چاہتا تھا۔ یہ واقعہ بائبل میں لکھا ہے 1 سلاطین 19:2-8
راز یہ ہے کہ رُکنا نہیں بلکہ آگے بڑھتے رہنا اور ثابت قدم رہنا ہے۔ خُدا کے فرشتے نے ایلیاہ کو کھانے پر مجبور کیا۔ اور اُس الہی خوراک سے جو قوت اُسے ملی اُس نے دوبارہ سفر شروع کیا۔ اور کیسا سفر تھا۔ چالیس دن اور چالیس راتیں خُدا کے پہاڑ تک۔
کسی نے کہا تھا آگے بڑھو اور تم دیکھو گے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ اپنی فتح ، برکت اور خُدا کے تحفے کے بہت قریب ہیں۔رُکیں نہیں۔ خاص طور پر گناہگاروں کے راستے پر نہیں۔ گناہ کے راستے پر ٹھہرنا انسان کے دل میں اداسی اور بے چینی لاتا ہے۔ چاہے راستہ تنگ ہی کیوں نہ ہو چلتے رہیں۔ جلد ہی آپ وہ برکت پائیں گے جو خُدا نے آپ کے لیے رکھی ہے۔آئیے میں آپ کے لیے دعا کروں۔ اے خُداوند میں آپ کو تیرے حضور رکھتا ہوں۔ تُو اُسے اُٹھا۔ نئی طاقت دے۔ نئی اُمید عطا کر۔ تیری خوشی اُس کی قوت بن جائے۔ وہ تیرے منصوبے پر قائم اور تیری راہوں پر مضبوطی سے چلتا رہے۔ یسوع کے نام میں آمین۔
آپ ایک معجزہ ہیں
ایرک