پرسکون رہیں
'مگر وہ اُن کے بِیچ میں سے نِکل کر چلا گیا۔ 'لُوقا 4 :30
'پِھر یِسُوعؔ رُوحُ القُدس سے بھرا ہُؤا یَردؔن سے لَوٹا اور چالِیس دِن تک رُوح کی ہدایت سے بیابان میں پِھرتا رہا۔ اور اِبلِیس اُسے آزماتا رہا۔ اُن دِنوں میں اُس نے کُچھ نہ کھایا اور جب وہ دِن پُورے ہو گئے تو اُسے بُھوک لگی۔ 'لُوقا 4: 1-2
یہ آزمائش ہی بہت تھی مگر پھر ابلیس آیا اور اُس نے یسوع کو بار بار آزمایا۔
شاید آپ نے بھی اپنی زندگی میں ایسے وقت دیکھے ہوں جب سب کچھ مشکل لگتا ہے۔ جیسے ہر طرف بیابان ہو اور کوئی راستہ نظر نہ آئے۔ ایسے میں ابلیس آ کر ہمیں ہماری کمزوری میں گرانے کی کوشش کرتا ہے۔
مگر یسوع نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ اُس نے خُدا کے کلام پر بھروسہ کیا اور ہر آزمائش کا جواب دیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر بار کامیاب رہا۔سب اُس کے فضل بھرے الفاظ پر حیران ہوئے۔لُوقا 4: 22 میں لکھا ہے 'اور سب نے اُس پر گواہی دی اور اُن پُر فضل باتوں پر جو اُس کے مُنہ سے نِکلتی تِھیں تعجُّب کر کے کہنے لگے کیا یہ یُوسفؔ کا بیٹا نہیں؟ '
اپنی زندگی میں اُس وقت پر غور کریں جب حالات اچانک بدل جاتے ہیں۔ کچھ لمحوں کے لیے سب کچھ ٹھیک لگتا ہے مگر پھر ماحول ہی بدل جاتا ہے۔ یہی یسوع کے ساتھ ہوا۔ لوگ جو ابھی اُس کے فضل بھرے الفاظ پر حیران تھے، اچانک غصے سے بھر گئے۔'لُوقا 4: 28-29 میں لکھا ہے 'جِتنے عِبادت خانہ میں تھے اِن باتوں کو سُنتے ہی قہر سے بھر گئے۔ اور اُٹھ کر اُس کو شہر سے باہر نِکالا اور اُس پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے جِس پر اُن کا شہر آباد تھا تاکہ اُسے سر کے بل گِرا دیں۔
'لُوقا 4: 30 میں لکھا ہے کہ 'مگر وہ اُن کے بِیچ میں سے نِکل کر چلا گیا
انتخاب آپ کے ہاتھ میں ہے۔ چاہیں تو غصے میں جلیں یا سکون سے اٹھ کر آگے بڑھیں۔
یہ کیسے ممکن ہے۔ اپنی توجہ لوگوں کی باتوں پر نہیں بلکہ خُدا کے کلام پر رکھیں۔ کیونکہ لکھا ہے 'زبُور 119: 105 تیرا کلام میرے قدموں کے لِئے چراغ اور میری راہ کے لِئے رَوشنی ہے۔
آپ ایک معجزہ ہیں۔
ڈیبورا