کیا آپ کے لیے چُپ رہنا مشکل ہوتا ہے۔
اِن دنوں ہم اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ دوسروں کو مایوس کرنا اور خود مایوسی کا سامنا کرنا کیا معنی رکھتا ہے کاش یہ معاملہ مختلف ہوتا مگر حقیقت یہ ہے کہ کبھی کبھی ہم خود اُن مایوسیوں کا باعث بن جاتے ہیں جو دوسروں کے دلوں کو گہرائی سے دُکھ دیتی ہیں آج میں آپ کے ساتھ ایک ذاتی تجربہ شیئرکر رہی ہوں اور اُمید کرتی ہوں کہ یہ آپ کے دل کو چُھوئے گا اور آپ کو اپنے الفاظ اور رویوں پر غور کرنے کی ترغیب دے گا تاکہ آپ خُدا کے دل کے مطابق نرمی اور دانائی میں بڑھ سکیں
کیا آپ نے کبھی کسی سے کوئی ایسی بات کہی ہے جس پر اگلے ہی لمحے افسوس ہوا ہو کیونکہ اُس نے نہ صرف دوسرے شخص کو مایوس کیا بلکہ آپ کو بھی
کیونکہ خدا کا کلام بتاتا ہے1 کرنتھیوں 10: 23 میں کہ 'سب چِیزیں روا تو ہیں مگر سب چِیزیں مُفِید نہیں۔ سب چِیزیں روا تو ہیں مگر س چِیزیں ترقّی کا باعِث نہیں۔ '
یہ آیت مجھے بہت پسند ہے کچھ لوگ اسے پابندی سمجھتے ہیں مگر میں اس میں آزادی دیکھتی ہوں
میں برسوں تک اپنے گھر والوں سے مل کر خود کو مجرم محسوس کرتی تھی یہ بات بہت ذاتی ہے مگر میں آپ سے شیئرکر رہی ہوں تاکہ آپ سمجھ سکیں کہ انسان اُس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود بدلنے کا فیصلہ نہ کرے
ہم فرانس کے رہنے والے ہیں اس لیے ہم دن کا آدھا حصہ میز پر بیٹھ کر باتیں کرتے گزارتے ہیں۔ اور جب بات چیت شروع ہو جائے تو اکثر زیادہ بولنے کا رجحان ہوتا ہے۔
کیا آپ کبھی ایسی صورتحال میں رہے ہیں۔
جب گفتگو آگے بڑھتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے خاموشی کافی نہ ہو اور مزید الفاظ کہنا ضروری ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے میں کیا کرتی تھی۔ انسان چاہتا ہے کہ وہ اپنی بات کو دلچسپ بنائے اور ہر موقع پر خود کو درست ثابت کرے۔
مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ یسوع ہم سے کچھ مختلف چاہتا ہے۔ اُس کی خواہش یہ ہے کہ ہم اپنے الفاظ میں نرمی لائیں۔ سننے میں جلدی کریں اور بولنے میں سست ہوں۔ تاکہ ہماری گفتگو اُس کے فضل اور محبت کی خوشبو پھیلائے۔
خدا کا کلام ہمیں بتا تا ہے کہ 'یعقوب 1: 19 میں کہ 'اَے میرے پِیارے بھائِیو! یہ بات تُم جانتے ہو۔ پس ہر آدمی سُننے میں تیز اور بولنے میں دِھیرا اور قہر میں دِھیما ہو۔ اور 'امثال 10: 19 میں لکھا ہے کہ 'کلام کی کثرت خطا سے خالی نہیں لیکن ہونٹوں کو قابُو میں رکھنے والا دانا ہے۔
زیادہ بولنا انسان کو اداس اور پشیمان کر دیتا ہے۔ جب ہم ہر بات میں خود کو درست ثابت کرنا چاہتے ہیں تو اکثر دوسروں کا دل دُکھا دیتے ہیں۔ اس سے رشتوں میں دوری آ جاتی ہے اور سب کو مایوسی ہوتی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہر بات چُپ رہنے کے لائق بھی ہوتی ہے۔ ہمیں ایک دوسرے سے محبت کرنی چاہیے جیسے مسیح ہم سے محبت کرتا ہے یہی سچی محبت ہے
اگر آپ کو یہ احساس ہو جائے جیسا کہ مجھے اُس وقت ہوا تھا کہ آپ اکثر زیادہ بول دیتے ہیں تو پھر آپ بھی ویسا ہی کریں جیسا میں نے کیا تھا۔ خُدا سے معافی مانگیں اور بولنے سے پہلے محبت کرنے کا فیصلہ کریں اور یہی سب کچھ بدل دے گا
جب ہم خاموش رہنا سیکھ لیتے ہیں تو اُس کی محبت زیادہ تیزی سے ظاہر ہوتی ہے
آپ ایک معجزہ ہیں۔
ڈیبورا