کیا آپ کسی فیصلے کے سامنے ہیں۔
کیا کروں۔ نہ کروں۔ سمجھ نہیں آ رہی۔ مگر اب فیصلہ کرنا ہی ہوگا۔
ہم سب ایسی حالت میں آتے ہیں جب فوری حل کی ضرورت ہوتی ہے۔ شاید آپ نے بھی ایسا لمحہ دیکھا ہو؟
یہی بات میرے ساتھ حال ہی میں پھر ہوئی جب میرے کان میں اچانک تکلیف شروع ہو گئی۔ ۔ مگر میں نے ایک چھوٹے پروگرام میں نوجوانوں کے سامنے گانے کا وعدہ کیا تھا اور اب سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ منسوخ کروں یا نہیں۔ ظاہر ہے صحت سب سے پہلے آتی ہے۔
پھر بھی میرے دل میں ایک آواز آئی جو کہہ رہی تھی۔ دعا کرو ڈیبورا۔ میں نے فوراً دعا کی اور پھر اپنا روحانی مطالعہ کھولا تو سیدھا اس دن کی یہ آیت میری نظر کے سامنے تھی۔'اُس نے کہا مَیں ضرُور تیرے ساتھ رہُوں گا 'خروج 3: 12
سب سے پہلے تو یہ کہنا پڑے گا۔ واہ۔ یہ تو بالکل واضح تھا۔
مگر ایسے معجزوں سے بھرے لمحوں میں عام طور پر کیا ہوتا ہے۔ ٹھیک پہچانا۔ شکوک فوراً واپس آ جاتے ہیں۔ جیسے کوئی اندر سے کہتا ہو۔ ڈیبورا یہ تو تم خود کو بہلا رہی ہو۔ یہ تو بس اتفاق ہے۔
لیکن ذرا سوچیں ابھی کیا ہوا۔ میں نے دعا کی۔ اور خدا کا کلام دعا کے بارے میں کیا کہتا ہے۔'تب تُم میرا نام لو گے اور مُجھ سے دُعا کرو گے اور مَیں تُمہاری سنُوں گا۔ یرمیاہ 29 :12
اسی لیے آپ کو دعا کرنی چاہیے اور پھر یقین رکھنا چاہیے جو خدا آپ سے کہتا یا اپنے کلام کے وسیلہ سے دکھاتا ہے۔ بالکل جیسے وہ مرقس 5 میں فرماتا ہے۔'جو بات وہ کہہ رہے تھے اُس پر یِسُوعؔ نے توجُّہ نہ کر کے عِبادت خانہ کے سردار سے کہا خَوف نہ کر۔ فقط اِعتقاد رکھ۔ 'مرقس 5: 36
'اِس لِئے مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ جو کُچھ تُم دُعا میں مانگتے ہو یقِین کرو کہ تُم کو مِل گیا اور وہ تُم کو مِل جائے گا۔ 'مرقس 11 :24
جب آپ شعوری طور پر شک کے دروازے کو بند کر دیتے ہیں تو خدا آپ کے لیے ایمان کی ایک نئی جہت کھول دیتا ہے۔
آپ ایک معجزہ ہیں
ڈیبورا