کچھ بھی بدلنے کی ضرورت نہیں۔
جب میں اُس پہلے لمحے کو یاد کرتی ہوں تو آج بھی مُسکرا دیتی ہوں. وہ لمحہ جب میری ملاقات اُس شخص سے ہوئی جس کے پیغام نے میرے دل کو چھو لیا. جس کی تحریروں نے میری سوچ بدل دی. اور جس کی زندگی نے مجھے گہرائی سے متاثر کیا.
میں اس ملاقات کے لیے بہت پُر جوش تھی. دل میں ایک خاص انتظار تھا. مگر جب دروازہ کھلا تو سچ کہوں تو میں حیران رہ گئی. ہر طرف چیزیں بکھری ہوئی تھیں. بڑے کمرے میں بچے دوڑ رہے تھے اور اُن کے ساتھ اُن کے کئی دوست بھی تھے. اچانک ایک بچہ گر کر زخمی ہو گیا اور زور زور سے رونے لگا. دوسرا بچہ بھوک کے مارے ضد کر رہا تھا. یہ منظر بالکل ویسا نہیں تھا جیسا میں نے اپنے دل میں سوچا تھا.
ایسے ماحول میں کوئی سکون کیسے پا سکتا ہے. کوئی یہاں خدا کی آواز کیسے سن سکتا ہے. شاید آپ کی زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہو. آپ سوچتے ہوں گے کہ اسی لیے میرے لیے خدا کے ساتھ وقت گزارنا یا اُس کی آواز سننا ممکن نہیں. مگر آج میں آپ کا حوصلہ بڑھانا چاہتی ہوں. اگر ہم اسے ہنگامہ کہیں تو یاد رکھیں کہ اکثر خدا اپنے سب سے حیرت انگیز پیغامات ایسے ہی ماحول میں دیتا ہے.اسی شور اور بے ترتیبی کے درمیان خدا نے اُس شخص کے دل میں وہ کلام ڈالا جس نے بے شمار زندگیاں بدل دیں. وہ الفاظ جو شاید وہ کبھی نہ سن پاتا اگر یہ سب نہ ہوتا.
اُسے خدا کی آواز سننے کے لیے اپنی جگہ سے ظاہری طور پر ہٹنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اُس نے مجھے بتایا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ یہ طے کرتا تھا کہ ایسے لمحات نکالے جائیں جب وہ کچھ دیر کے لیے الگ ہو کر اپنے وعظ لکھ سکے، اور ہاں، یہ سب شور و غل کے بیچ ہی ہوتا تھا۔ یہ وقت کے لمبے وقفے نہیں تھے، بلکہ چھوٹے چھوٹے لمحات تھے.
لیکن خدا ایک لمحے میں آپ کو وہ کچھ دے سکتا ہے جو آپ ساری زندگی اپنی کوشش سے حاصل نہیں کر سکتے۔ یہ بات بظاہر عجیب لگتی ہے، مگر یہ سراسر سچ ہے.
اور اس بارے میں ایک اور خیال۔ خدا کو پانے کے لیے آپ کو لازمی طور پر کوئی پرسکون جگہ ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں۔ بس یہ کافی ہے کہ آپ اپنے اندر سکون حاصل کریں۔ جیسا یسعیاہ 26:3 میں لکھا ہے کہ 'جِس کا دِل قائِم ہے تُو اُسے سلامت رکھّے گا کیونکہ اُس کا توکُّل تُجھ پر ہے۔ '
جب ہم اپنی توجہ خدا پر مرکوز کرتے ہیں تو ہم اُس کی حضوری کو اپنے ہنگاموں کے درمیان بھی محسوس کرتے ہیں.آپ ایک معجزہ ہیں.
ڈیبورا