کیا آپ ایمان کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔
کیا آپ محسوس کر رہے ہیں کہ خدا آپ سے ایمان میں قدم اُٹھانے کو کہہ رہا ہے۔ کیا خدا نے آپ کے دل میں کچھ ایسا ڈالا ہے جسے سن کر آپ سوچتے ہیں کیا واقعی خدا یہی چاہتا ہے۔
یہ سوچ کر افسوس ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کی باتوں پر کتنی آسانی سے یقین کر لیتے ہیں۔ اگر خبروں میں کہا جائے کہ آج کا موسم سر درد پیدا کرے گا تو ہم فوراً مان لیتے ہیں کہ ہاں آج سر میں درد ہوگا اور وجہ صرف موسم ہے۔ مگر جب خدا ہمارے دل میں کوئی بات رکھتا ہے جو ہمارے خوابوں اور دعاؤں کے مطابق ہوتی ہے تو ہم فوراً شک کرنے لگتے ہیں۔ ہم ثبوت ڈھونڈنے لگتے ہیں کہ واقعی یہ خدا کی طرف سے ہے یا نہیں۔ ہم سوچتے ہیں اگر میں نے یہ قدم اُٹھایا تو کیا ہوگا۔ کیونکہ ہمارا دل یقین سے زیادہ حفاظت چاہتا ہے۔
ہاں ہم انسان اکثر اس وقت تک انتظار کرتے رہتے ہیں جب تک پوری تصویر صاف نظر نہ آئے۔ حالانکہ خدا ابھی ہم سے ایک قدم اُٹھانے کو کہہ رہا ہوتا ہے۔ ہم اپنے خوف اور شک کے تابع ہو جاتے ہیں نہ کہ خدا کی قدرت پر بھروسہ کرتے ہیں۔
جب آپ خدا کی بات ماننے میں دیر کرتے ہیں تو آپ خدا کے کام کو بھی دیر سے دیکھتے ہیں۔ لیکن جب خدا نے ابرام سے کہا دیکھتے ہیں با ئبل میں سے 'پیدائش 12 : 1 میں کہ ۔ تُو اپنے وطن اور اپنے ناتے داروں کے بیچ سے اور اپنے باپ کے گھر سے نِکل کر اُس مُلک میں جا جو مَیں تجھے دِکھاؤں گا ۔ابرام ایسا بھی کر سکتا تھا جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہیں۔ یا وہ گھبرا سکتا تھا۔ لیکن اس نے 'پیدائش 12: 4 کے مطا بق 'سو ابرامؔ خُداوند کے کہنے کے مُطابِق چل پڑا
آج میرے لیے یہ بہت اہم ہے کہ میں آپ کے لیے وہ دوسرا یقین بنوں جس کی آپ کو ضرورت ہے تاکہ آپ اس بات کو سنجیدگی سے لیں جو خدا پہلے ہی آپ سے کہہ چکا ہے۔فرمانبرداری کریں اور ایمان کے ساتھ آگے بڑھیں۔ پھر آپ دیکھیں گے کہ خدا کس طرح اپنی برکتوں کے دروازے آپ پر کھولتا ہے۔
آج ایک لمحہ نکالیں اور فیصلہ کریں۔ یہ فیصلہ آپ کی زندگی بدل سکتا ہے۔
میں پُرجوش ہوں۔ یہ شاندار ہوگا۔
آپ ایک معجزہ ہیں۔
ڈیبورا