آپ بادشاہی کے وارث ہیں۔
خدا کی بادشاہی کو بیان کرنا ایک گہرا اور اہم موضوع ہے۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ بائبل میں خدا کی بادشاہی یا آسمان کی بادشاہی کا ذکر تقریباً سو بار آیا ہے۔ اس کے مقابلے میں انجیل کا لفظ قریب نوے بار اور کلیسیا کا لفظ بھی تقریباً سو بار استعمال ہوا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یسوع کی تعلیمات میں خدا کی بادشاہی مرکزی مقام رکھتی ہے۔
متی 6: 33 میں لکھا ہے کہ بلکہ تُم پہلے اُس کی بادشاہی اور اُس کی راست بازی کی تلاش کرو تو یہ سب چِیزیں بھی تُم کو مِل جائیں گی۔
ہم سب اس بات پر قائل ہیں کہ انجیل کی اہمیت ہے۔ جو یسوع مسیح میں نجات کی خوشخبری ہے۔ ہم سب اس پر بھی قائل ہیں کہ کلیسیا کی اہمیت ہے۔ جو مسیح کی دلہن ہے۔ لیکن صرف چند ہی لوگ اس بات کو پہچانتے ہیں کہ بادشاہی کی کتنی اہمیت ہے۔
یہ لفظ جب کھولا جائے تو اس کے معنی ہیں بادشاہ کا دائرہ اختیار۔ اور اس لفظ کے ماخذ سے پتا چلتا ہے کہ اس کا مطلب ہے جو بادشاہ کا ہے۔ یسوع بادشاہ ہے۔ اور اس کی بادشاہی زمین کی کسی بھی بادشاہت یا حکومت کی مانند نہیں۔
جیسا کہ لکھا ہے'رومیوں 14: 17 میں'کیونکہ خُدا کی بادشاہی کھانے پِینے پر نہیں بلکہ راست بازی اور میل مِلاپ اور اُس خُوشی پر مَوقُوف ہے جو رُوحُ القُدس کی طرف سے ہوتی ہے۔
جب یسوع ہم سے کہتا ہے کہ سب سے پہلے اُس کی بادشاہی کو تلاش کرو تو اُس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اُس کو تلاش کریں جس کی یہ بادشاہی ہے۔ اور اُن تمام اقدار کے ساتھ جو وہ ظاہر کرتا ہے۔ جیسے عدالت۔ سلامتی۔ محبت۔ فروتنی۔ نیکی۔ نرمی وغیرہ۔
یسوع کے پیروکار ہونے کے ناطے آپ اس بادشاہی کے حصے دار ہیں۔ یسوع آپ کا نیک بادشاہ ہے جو اپنی بادشاہی میں سلامتی اور انصاف لاتا ہے۔
آپ نہ صرف اس بادشاہی کا حصہ ہیں بلکہ اُس کے شریک وارث بھی ہیں۔ آپ بادشاہ کے محبوب فرزند ہیں اور وہ آپ کو آپ کے نام سے پکارتا ہے۔
آپ کا اُس کی میز پر پکا مقام ہے اور وہ آپ سے بے شمار خزانوں کا وعدہ کرتا ہے۔ یسوع کے نام میں یہ سب آپ ہی کا ہے۔
رومیوں 8: 17 ہمیں یہ بات یاد دلاتا ہے کہ 'اور اگر فرزند ہیں تو وارِث بھی ہیں یعنی خُدا کے وارِث اور مسِیح کے ہم مِیراث بشرطیکہ ہم اُس کے ساتھ دُکھ اُٹھائیں تاکہ اُس کے ساتھ جلال بھی پائیں۔
پس سب سے پہلے اس بادشاہی کے بادشاہ کو اور اُس کے دل کی سب باتوں کو تلاش کرو اور یہ سب چیزیں بھی تمہیں مل جائیں گی。
آپ ایک معجزہ ہیں۔
ڈبیورا