آپ کی کمزوری سے زیادہ طاقتور کیا ہے۔
آج میں نے ایک دن کا روزہ رکھا اور اسکول میں اے گریڈ پایا۔ مجھے لگتا ہے روزہ واقعی فائدہ مند ہے۔ یہ کتنی پیاری بات تھی جو میں نے بارہ برس کی عمر میں اپنی ڈائری میں لکھی تھی۔لیکن جو بھی روزہ رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ یہ آسان نہیں ہوتا۔ جیسے ہی آپ روزہ رکھتے ہیں تو کھانے کا خیال بار بار آنے لگتا ہے۔ کیا ایسا ہی نہیں کہ ہر وہ چیز جو ہمارے پاس نہیں ہوتی وہی ہمیں سب سے زیادہ یاد آتی ہے۔
یسوع بھی اسی تجربے سے گزرے بائبل میں لکھا ہےلُوقا 4: 1-2' میں کہ یسوع چالیس دن بیابان میں رہے 'پِھر یِسُوعؔ رُوحُ القُدس سے بھرا ہُؤا یَردؔن سے لَوٹا اور چالِیس دِن تک رُوح کی ہدایت سے بیابان میں پِھرتا رہا۔ اور اِبلِیس اُسے آزماتا رہا۔ اُن دِنوں میں اُس نے کُچھ نہ کھایا اور جب وہ دِن پُورے ہو گئے تو اُسے بُھوک لگی۔
اور یہ مت بھولیے کہ یسوع اس دنیا میں انسان کے طور پر آئے اور انہوں نے بھی بھوک کا تجربہ کیا جیسا کہ ہم بھی کرتے ہیں۔لُوقا 4: 2 میں لکھا ہے اور اِبلِیس اُسے آزماتا رہا۔ اُن دِنوں میں اُس نے کُچھ نہ کھایا اور جب وہ دِن پُورے ہو گئے تو اُسے بُھوک لگی۔
اور پھر شیطان آتا ہے اور یسوع کی کمزوری پر حملہ کرتا ہے۔ جیسے اُس نے یسوع کو آزمایا ویسے ہی وہ ہماری کمزوریوں پر بھی وار کرتا ہے۔'اور اِبلِیس نے اُس سے کہا کہ اگر تُو خُدا کا بیٹا ہے تو اِس پتّھر سے کہہ کہ روٹی بن جائے۔ لُوقا 4: 3
یہ دوہرا وار تھا۔ سب سے پہلے شیطان نے یسوع کی پہچان کو چیلنج کیا۔ اگر تو خدا کا بیٹا ہے۔ کیا یہ آواز آپ کو جانی پہچانی نہیں لگتی۔ جی ہاں یہ وہی آواز ہے جو دل میں شک ڈالتی ہے۔ اور کہتی ہے۔ کیا تم واقعی خدا کے فرزند ہو۔ پھر تمہارا خدا کہاں ہے۔ مجھے تو وہ دکھائی نہیں دیتا۔
اور یہی شک ڈالنے کے بعد شیطان نے یسوع کی بھوک پر حملہ کیا۔ اُس نے کہا۔ اگر تو خدا کا بیٹا ہے تو اس پتھر کو حکم دے کہ روٹی بن جائے۔ یسوع یہ کر سکتے تھے مگر انہوں نے ایسا نہ کیا کیونکہ یہ خدا کی مرضی نہ تھی بلکہ شیطان کی
مر ضی تھی۔
آپ کی زندگی میں وہ بڑی بھوک کیا ہے؟
.تنہائی۔ اور وہ آواز کہتی ہے اس بھوک کو فحش مواد سے بھر لو.کھانا۔ اور وہ آواز کہتی ہے فریج حاضر ہے اس بھوک کو کھانے سے دبا دو.اداسی۔ اور وہ آواز کہتی ہے بوتل یا کسی اور چیز کا سہارا لو تاکہ یہ ٹھیک ہو جائے
یسوع نے شیطان کی ساری آزمائشوں کا مقابلہ کیسے کیا؟
یسوع نے ہر بار فوراً اور واضح جواب دیا۔ خدا کے کلام میں لکھا ہے ۔لُوقا 4:4 اور لُوقا 4: 8اور لُوقا 4: 10
جب آپ آزمائش میں پڑیں تو اپنے الفاظ سے جواب نہ دیں بلکہ خدا کے کلام سے دیں۔
اس نظرئیے کو اپنائیں اور دیکھیں معجزے کیسے ظاہر ہوتے ہیں۔
آپ ایک معجزہ ہیں!
ڈیبورا