صلیب کا چوتھا عجوبہ: کیا خدا کو آپ کے درد کی پرواہ ہے؟
صلیب سے پہلے، درد تھا۔ ایک بے خوابی بھری رات کے بعد، یسوع کے ساتھ ایک مجرم جیسا سلوک کیا گیا۔ وہ باندھا گیا، سوال کیے گئے، ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا گیا۔ وہ پلطُس کے سامنے کھڑا ہوا—بار بار—اور ہر بار فیصلہ یہی تھا:
"میں اس میں کوئی قصور نہیں پاتا۔"
لیکن پھر بھی، اُسے مارنے کے لیے حوالے کر دیا گیا۔
وہ تکلیف جس کا وہ حقدار نہیں تھا، یسوع کو ستون کے ساتھ باندھ کر کوڑے مارے گئے۔ نہ اس لیے کہ وہ مجرم تھا، نہ اس لیے کہ وہ اس کا مستحق تھا۔ بلکہ اس لیے کہ یہ کسی گہری بات کا حصہ تھا۔ صدیوں پہلے یسعیاہ نے لکھا تھا:
"جس طرح بہت سے لوگ تجھ کو دیکھ کر حیران ہوئے، کیونکہ تیرا چہرہ ہر ایک آدمی سے زیادہ بگڑ گیا اور تیری صورت بنی آدم سے زیادہ خراب ہو گئی۔" (یسعیاہ 52:14)
یہ ایک مشکل سوال پیدا کرتا ہے: آخر یسوع کو اس قدر تکلیف کیوں سہنی پڑی؟
کیا اُس درد میں کوئی مقصد تھا؟
اگر تکلیف کا کوئی مقصد نہ ہوتا، تو کیا ایک فوری موت کافی نہ تھی؟ لیکن صلیب کبھی بھی بے معنی نہیں تھی۔ ہر لمحہ اپنے اندر ایک مقصد لیے ہوئے تھا۔ جیسے یسوع—وہ جو بے گناہ تھا—نے ہمارے گناہ اپنے اوپر لے لیے، ویسے ہی اُس نے ایک اور چیز کو بھی اپنے اندر سمو لیا: ہمارا درد، ہماری ٹوٹ پھوٹ، ہماری بیماری، اور ہماری تکلیف۔
جو کچھ اُس نے اُٹھایا، ہر ضرب کے ساتھ، ہر کمزوری کے لمحے میں، یسوع انسان کی تکلیف کی حقیقت میں قدم رکھ رہا تھا۔ وہ صرف اسے دیکھ نہیں رہا تھا، بلکہ خود اُسے اٹھا رہا تھا۔ بائبل میں لکھا ہے:
"وہ آدمِیوں میں حقیر و مردُود، مردِ غمناک اور رنج کا آشنا تھا۔" (یسعیاہ 53:3)
کوئی بھی درد ایسا نہیں جو آپ نے اُٹھایا ہو اور وہ اُس کو نہ سمجھے۔ کوئی جدوجہد ایسی نہیں جو اُس سے اجنبی ہو۔
جہاں شفا شروع ہوتی ہے
صلیب کا پیغام صرف معافی نہیں ہے، یہ شفا بھی ہے۔ جیسا کہ بائبل میں لکھا ہے:
"حالانکہ وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھایل کِیا گیا اور ہماری بدکرداری کے باعث کُچلا گیا۔" (یسعیاہ 53:5)
یہ ہمیشہ فوراً نظر نہیں آتا، اور یہ جواب ہمیشہ ویسا نہیں ہوتا جیسا ہم توقع کرتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ ضرور ہے کہ آپ کے درد کی اہمیت ہے، آپ کے جسم کی اہمیت ہے، اور خدا کے لیے آپ کی شفا اہمیت رکھتی ہے۔
ایک ذاتی سوال
آج آپ کہاں ٹوٹا ہوا محسوس کر رہے ہیں؟ کیا یہ جسمانی ہے؟ کیا یہ جذباتی ہے؟ یا کچھ اور گہرا، جو کوئی اور نہیں دیکھ پاتا؟
ایک قدم اٹھائیں
آپ کو یہ سب اکیلے برداشت کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ جیسا ہیں ویسے ہی آ سکتے ہیں—تھکے ہوئے، درد میں، غیر یقینی۔ اور ایک چھوٹی شروعات سے آغاز کریں: ایک دعا، ایک سچا لمحہ، شفا کی طرف ایک قدم۔
اگر آپ چاہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہمیں یہ عزت حاصل ہوگی کہ ہم آپ کے ساتھ دعا کریں اور آپ کے درد کو خدا کے سامنے رکھیں۔